دھوکے بازی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دھوکا، مکر، فریب، دغابازی۔ "آیندہ افسروں کی ایسی دھوکے بازیوں سے ہوشیار رہیے۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٩٥:٤ )

اشتقاق

سنسکرت اور فارسی سے ماخوذ مرکب 'دھوکے باز' کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩٤٧ء سے "فرحت، مضامین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دھوکا، مکر، فریب، دغابازی۔ "آیندہ افسروں کی ایسی دھوکے بازیوں سے ہوشیار رہیے۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٩٥:٤ )

جنس: مؤنث